عید الاضحیٰ کا پیغام: قربانی، صبر اور برکت کا سبق

عید الاضحیٰ کا پیغام ہمیں قربانی، صبر اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ چیز چھوڑنے کا درس دیتا ہے۔ یہ دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے، جو ہر مسلمان کے ایمان کو تازہ کرتا ہے۔

عید الاضحی کا تعلق حج جیسی اہم عبادت سے ہے اور یہ اسلام کا پانچواں ارکان ہے جو کہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے عید الاضحی مسلمانوں کے لیے صبر اور قربانی کا سبق ہے جس میں مسلمان اپنی پسندیدہ جانور جن کو انہوں نے اپنے بچوں کی طرح پالا ہوتا ہے ان کو اللہ تعالی کی راہ میں قربان کر دیتے ہیں نبی پاک کے فرمان کے مطابق جنت میں ان کی سواری ہوں گی کو جنت میں دے گا عید الاضحی نہ صرف قربانی کا نام ہے بلکہ یہ ہمیں اس عظیم واقعے کی یاد دلاتا ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے درمیان پیش ایا اج کے اس ارٹیکل میں ہم تمام نکات پر بات کریں گے اور یہ واضح کریں گے کہ عید الاضحی کیسے ایک امت کو اکٹھا کرتا ہے اور تمام مسلمانوں کے دل میں قربانی اور صبر کا امتحان ہوتا ہے


حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت

عید الاضحی کی اصل روح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی میں پوشیدہ ہے جو کہ اللہ تعالی کے حکم سے انہوں نے پیش کی تھی ہوا کچھ یوں تھا کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بہت ہی پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں ایک دن انہوں نے خواب میں دیکھا تو یہ بات صبح اگلے دن انہوں نے اپنے بیٹے سے ڈسکس کی اور انہیں بتایا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں نے اسماعیل یعنی کہ تمہیں ذبح کر دیا ہے اللہ کی راہ میں ابا یہ مجھے اللہ کا حکم لگتا ہے اور اپ وحی کیجیے جو اللہ کا حکم ہے اپ مجھے ذبح کر دیجیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں کیسے اپنی انکھوں سے تمہیں ذبح ہوتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ ابا اپ اپنی انکھوں پر پٹی باندھ لیجیے بہترین رضا اللہ تعالی کی ہے اور اسی میں ہم خوش رہنا چاہیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی انکھوں پر پٹی باندھی اور حضرات اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلا دی ہوا کچھ اس طرح کہ اللہ تعالی کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام زمین پر اترے اور چھری چلنے سے سے پہلے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک دنبے کو لا کر رکھ دیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب چھری چلا کر اپنی انکھوں سے پٹی ہٹائی تو انہوں نے دیکھا کہ ایک زندہ ذبح ہوا پڑا ہے پھر اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری دی کہ ہم نے اپ کی قربانی قبول فرما لی ہے اور اج کی اس قربانی کو انے والی نسلوں تک سنت کا ذریعہ بنا دیا ہے اسی لیے اس دنبہ کی قربانی قبول کر لی گی۔اور فرمایا اسے خود بھی کھاؤ اور اپنے رشتہ داروں کو بھی کھلاؤ اور غریبوں میں بھی بانٹ دو اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حضرت اسماعیل یعنی اپنے سب سے پیارے بیٹے کو اللہ تعالی کی راہ میں قربان کرنے کا یہ جذبہ اللہ تعالی نے مسلمانوں میں سنت کے طور پر رکھ دیا ہے جو کہ مثال اے محبت کی قربانی کی اور صبر کی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا۔

قربانی کی اہمیت اور فضیلت

قربانی محض ایک جانور ذبح کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اسے کے پیچھے کی وجہ کچھ اور ہے اللہ تعالی قران مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے اور نہ اللہ تعالی کو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون اس تک پہنچتا ہے تمہارا تقوی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کا مقصد قربانی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کا تقوی حاصل کرنا ہے اللہ تعالی انسان کو ازما رہا ہوتا ہے کہ انسان میری خاطر کیا کر سکتا ہے کی قربانی کا اکثر مقصد تقوی اور ایمان حاصل کرنا ہے

عید کی صبح: طہارت، خوشبو اور خوش لباسی کا درس

کے دن جانور کو ذبح کرنے کا درس نہیں دیتا اس کے علاوہ انسان کو اسلام کی طرف سے پاکیزہ صاف ستھرا رہنا اور عید کی نماز ادا کرنے کا بھی حکم ملا ہے سب سے پہلے صبح فجر کی نماز پڑھنے کے بعد انتظار کیا جائے کہ کس وقت عید کی نماز ادا کی جائے گی اس کے ساتھ ہی مسجد میں جا کر عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے نئے کپڑے اچھا عطر اور خوشبو لگا کر خود کو سنوار کر مسجد میں جایا جائے وہاں اللہ تعالی کی عبادت کرنے کے بعد اور نماز ادا کرنے کے بعد گھر واپس ایا جائے اور بہتر یہی ہے کہ اپنے جانور کو خود ذبح کیا جائے اگر ایسا نہیں کر سکتے تو کسی قصائی وغیرہ سے ذبح کروا لیا جائے اور ان سے خاص کہا جائے کہ ذبح کرنے سے پہلے اللہ کا نام لازمی لے ورنہ قربانی قبول نہیں ہوتی ایسا عمل ہے جو نہ صرف صبر کا امتحان لیتا ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بنتا ہے

روزگار کا ذریعہ


کی گوشت کے ذریعے مدد ہوتی ہے اس کے علاوہ یہ لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بھی بنتا ہے جی ہاں لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ یعنی لاکھوں لوگ قربانی کے ذریعے اپنی بھوک یہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتے ہیں جی ہاں سب سے پہلے تو چارے والے اتے ہیں جب ایک امیر مسلمان جانور خرید کر لاتا ہے تو اس سے سب سے پہلی چیز جو چاہیے ہوتی ہے چارہ اور وہ چارہ خریدنے کے لیے چارے والے کے پاس جاتا ہے جس سے اس کا چارہ بکتا ہے اور اس کا گھر چلتا ہے اس کے بعد کسائی کی باری اتی ہے جب قربانی کے دن جانور کو ذبح کرنے کے لیے کسائی کی ضرورت پڑتی ہے اس سے کسائی کا گھر چلتا ہے غریب لوگوں کے گھر پہنچتا ہے تو ان کے گھر پکتا ہے تو ان سے غریب لوگوں کا گھر چلتا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی نہ صرف جانور ذبح کرنے کا نام ہے بلکہ اللہ تعالی نے اس میں بہت سے لوگوں کے لیے روزی بھی رکھی ہوئی ہے اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر سال اگر ہم صاحب حیثیت ہیں تو قربانی کریں

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور اپ کو اپنے نیک بندوں میں شامل رکھے باقی اپ کو یہ ارٹیکل کیسا لگا اپنی رائے کمنٹ میں لازمی بتائیے گا اس کے علاوہ اگر اپ مزید اس طرح کے ارٹیکلز پڑھنا چاہتے ہیں تو اپ ہماری ویب سائٹ کہ بلاگ سیکشن میں وزٹ کر سکتے ہیں

this article also avalible in english.

1 thought on “عید الاضحیٰ کا پیغام: قربانی، صبر اور برکت کا سبق”

Leave a Comment