قیامت کے دن انسانوں کا دوبارہ زندہ ہونا | قرآن و سنت اور سائنسی حقائق

قیامت کے دن انسانوں کا دوبارہ زندہ ہونا ہر دور کا سب سے بڑا سوال رہا ہے۔ قرآن اور احادیث صاف بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو زندہ کرے گا تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جا سکے۔

جب بھی کسی انسان کے سامنے یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی موجود ہے اور وہ قیامت کے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا تو تمام انسانوں کے دلوں میں یہ سوال لازما اتا ہے کہ کس طرح ایک مر چکے انسان کو اللہ تعالی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے کیونکہ اگر ہندوؤں میں دیکھا جائے تو ان کی مذہبی رسومات یہ ہیں کہ وہ مرنے کے بعد انسان کو جلا دیتے ہیں یعنی اس کا وجود ہی نہیں رہتا تو اللہ تعالی کیسے اس کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے یہ سوالات نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں بھی بہت سے لوگ پوچھا کرتے تھے جن کے جوابات قران مجید میں بھی ائے ہیں اس کے علاوہ کئی احادیث میں حضور پاک نے ان کو ان کے سوالوں کے جوابات دینے کی کوشش کی ہیں اج کی اس ارٹیکل میں ہم اپ کو ایک ایسا سائنٹیفکلی پروف دیں گے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے جو یہ دعوی کیا ہے کہ وہ قران میں کہ اخرت کے دن وہ سب انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان سے ان کا حساب لے گا یہ درست ہے جی ہاں دوستو ہم سائنٹیفکلی اس کو

پروف کرنے کی کوشش کریں گے کہ کیسے ایک انسان زندہ ہو سکتا ہے اور کیوں اللہ تعالی نے ایسی مثالیں بیان کی ہیں جس کو پڑھ کر انسان غور و فکر کرنے پر مجبور ہے اور اس کو یہ بات سمجھ میں ا جاتی ہے کہ یہ کلام کسی عام ہستی کا نہیں بلکہ بہت اعلی ہستی کا کلام ہے جو تمام فیوچر میں ہونے والے واقعات کو بھی جانتا ہے اور موجودہ حال کو بھی جانتا ہے

سب سے پہلے یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا ایسا کبھی ہوا بھی ہے کہ انسان کو دنیا میں ہی دوبارہ زندہ کر لیا گیا ہو جی ہاں دوستو ایسا ہوا ہے اخر میں نے تو اللہ تعالی ساری کائنات کو اس زندہ کرے گا مگر دنیا میں اللہ تعالی نے اپنے ایسے معجزات دکھائے ہیں کہ انسان غور و فکر کرنے پر مجبور ہے جی ہاں دوستو سب سے پہلے اپ کو بتاتے چلیں کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص مر گیا جس کے قاتل کا لوگوں کو پتہ نہیں چل رہا تھا پھر اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کے ذریعے ان کو بتایا کہ ایک بچھڑے کی قربانی کرو اور اس کے گوشت کا حصہ مرنے والے شخص پر مارو بنی اسرائیل کے لوگوں نے ایسا ہی کیا جیسے ہی انہوں نے گوشت کا ایک ٹکڑا مرنے والے شخص پر پھینکا تو وہ شخص اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے اپنے قاتل کا نام بتایا اور پھر سے مر گیا دوستو یہ چیز ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالی ہر انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس طرح اللہ نے بنی اسرائیل کے شخص کو زندہ کر لیا اسی طرح دنیا کے تمام لوگوں کو زندہ کر سکتا ہے اس کے علاوہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی مشہور ہے جس میں ایک دفعہ ان کے دلوں دل میں ایک سوال ایا کہ اللہ تعالی

اس طرح قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کرے گا تو اللہ تعالی نے اس کا جواب دینے کے لیے ان سے کہا کہ ان کے پاس جو کبوتر ہے اس کو ذبح کریں اور اس کا گوشت چار پہاڑوں پر الگ الگ جگہ پر رکھ دیں پھر واپس ا کر اس کو پکارے تو دیکھیں کیا ہوتا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کیا تو وہ کبوتر اڑتا ہوا ابراہیم علیہ السلام کے پاس اگیا یہاں دوستو وہی کبوتر جس کو ذبح کر کے اس کا گوشت پہاڑوں پر رکھا گیا تھا وہ کبوتر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس اب واپس اگیا اس کے علاوہ بہت سے واقعات ہیں جن میں انسان کو دوبارہ زندہ کرنے کے معجزات ملتے ہیں جن میں حضرت عزیر علیہ السلام کا معجزہ بھی شامل ہے جب وہ ایک بستی کے پاس سے گزرے اور کہا کہ اللہ تعالی اس بستی کو کیسے اباد کرے گا جبکہ یہ پوری طرح تباہ ہو چکی ہے تو اللہ تعالی نے ان کو اپنا معجزہ دکھانے کے لیے جیسے ہی یہ درخت پر یہ نیچے سائے میں سوئے اور اپنا گدھا درخت کے ساتھ باندھا تو اللہ تعالی نے ان کی روح قبض کر لی اور ان کو دنیا سے اوجل کر دیا س سال کے بعد اللہ تعالی نے ان پر روح دوبارہ ان کے در ڈال دی اور ان سے پوچھا کہ اپ کتنی دیر سوئے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صرف ایک دن یعنی انہیں پتہ بھی نہیں چلا کہ 100 سال تک ان کی روح ان کے جسم سے نکل چکی تھی دوسری طرف جو گدا انہوں نے درخت کے ساتھ باندھا تھا وہ وہیں مر گیا تھا پھر اللہ تعالی نے فرمایا کہ اپنے پاس موجود گدھے کی ہڈیوں

کو دیکھو جیسے ہی عزیر علیہ السلام نے گدھے کی ہڈیوں کو دیکھا تو وہ خود بخود چلنے لگی ہیں ان پر گوشت چڑھنے لگا اور گدھا سلامت کھڑا ہو گیا جیسے عزیر علیہ السلام نے اسے درخت کے ساتھ باندھا تھا اس کے علاوہ عزیر علیہ السلام کے پاس پھل بھی تھے اللہ تعالی نے کہا کہ ان پھلوں کو دیکھو جیسے ہی حضرت عزیر علیہ السلام نے اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈالا تو نے پتہ چلا کہ پھل ان کے ویسے کے ویسے سلامت ہیں یعنی سو سال تک اللہ تعالی نے پھلوں کو ویسے ہی رکھا جیسے حضرت عزیر علیہ السلام نے توڑے تھے تو یہ سارے واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی انسان کو زندہ کیا جا سکتا ہے اور اللہ تعالی بے شک اس چیز پر قادر ہے اور وہ اخرت کے دن ضرور انسان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس کے کیے گئے اعمال کے بارے میں ان سے پوچھے گا تو دوستو اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اخرت کی تیاری کر لیں کیونکہ جب اخرت میں ہم سے یہ پوچھا جائے گا کہ اپ نے کون سے اعمال کیے ہیں جن کی بنا پر اپ کو جنت ملے گی تو ہمارے پاس بھی ان کے جواب ہونے چاہیے اللہ تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین


Leave a Comment